بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کا پلان طلب

بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کا پلان طلب

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جامع اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کے قیام کا تفصیلی پلان طلب کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا تحفظ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر قطرے کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرِ صدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پنجاب میں پانی کی بچت، زیرِ زمین پانی کی مینجمنٹ اور زرعی اصلاحات سے متعلق مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں نے پانی کے ذخائر، بارش کے پانی کے استعمال اور موجودہ صورتحال پر بریفنگ بھی دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ سمجھدار قومیں پانی کے ایک ایک قطرے کی حفاظت کرتی ہیں، اس لیے پنجاب میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے پوٹھوہار کے بارانی علاقوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئندہ تین سال کے دوران مزید 800 منی ڈیمز تعمیر کرنے کی منظوری بھی دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ان نئے منی ڈیمز کی تعمیر سے 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی اضافی صلاحیت پیدا ہوگی، جس سے نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہوگی بلکہ زرعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ نے زیرِ زمین پانی کے مؤثر استعمال اور اس کی نگرانی کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے واٹر کنزرویشن اور پانی کی مؤثر مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ہیومن ریسورس (HR) اسٹاف تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ پانی کے ذخائر، استعمال اور بچت کے اقدامات کی مسلسل نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت، آبپاشی، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ کو باہمی تعاون کے ساتھ پانی کے تحفظ کے منصوبوں پر کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ رواں مالی سال کے دوران کسانوں کو 50 فیصد سبسڈی پر 1,000 نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کیے جائیں گے، جس سے آبپاشی میں پانی کا ضیاع کم ہوگا اور زرعی پیداوار میں بہتری آئے گی۔

اجلاس کے دوران کھاد کی دستیابی اور مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں تعمیر کیے گئے نئے منی ڈیمز کے تصویری شواہد پیش کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پانی کے تحفظ اور زرعی ترقی سے متعلق تمام منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں پانی کی قلت کے چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

More News