لاہور میں ایل پی جی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت، شہری پریشان
لاہور: شہر میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سرکاری نرخوں کے برعکس من مانی قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے صارفین کو فی کلو ایل پی جی کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اوگرا نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 241 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، تاہم لاہور کے مختلف علاقوں میں یہ گیس 400 سے 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے گھریلو صارفین، ہوٹل مالکان اور چھوٹے کاروباری طبقے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگی ایل پی جی نے ان کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام فوری کارروائی کرتے ہوئے سرکاری نرخوں پر فروخت کو یقینی بنائیں اور منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب ایل پی جی ڈیلرز اور دکانداروں کا مؤقف ہے کہ وہ گیس مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، اس لیے سرکاری نرخوں پر فروخت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اگر ایل پی جی پلانٹس پر اوگرا کے مقررہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے تو صارفین کو بھی سرکاری قیمت پر گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی جنم لے رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوگرا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کریں تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔
واضح رہے کہ ملک میں مہنگائی کے باعث پہلے ہی عوام پر معاشی دباؤ بڑھ چکا ہے، ایسے میں ایل پی جی کی من مانی قیمتوں پر فروخت نے گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔







