دہشتگردی کےخاتمےاورپائیدارامن کیلئے پوری قوم سیکیورٹی فورسزکیساتھ کھڑی ہے، صدر مملکت

صدر مملکت: دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری قوم سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران کیا، جس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال اور دیگر اہم قومی امور بھی زیر غور آئے۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے امن و استحکام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد، مؤثر حکمت عملی اور تمام اداروں کے درمیان مکمل تعاون ناگزیر ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف مختلف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 28 اور 29 جولائی کی درمیانی شب ضلع خیبر میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشنز میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جہاں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 دہشت گرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے وابستہ 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر چھپے ہوئے عناصر کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے “عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی، اور ملک دشمن عناصر کے خلاف ہر سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مٹہ میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران ایلیٹ فورس کے جوان کانسٹیبل گلفام جامِ شہادت نوش کر گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے راشد سر کے اسٹریٹجک مقام پر کامیابی سے کنٹرول حاصل کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک رہائشی مکان میں پناہ لے رکھی تھی اور اہلِ خانہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے انتہائی احتیاط اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی مکمل کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و استحکام کا قیام اور دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں امن کے قیام تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے ہر خطرے کا بھرپور قوت سے مقابلہ کیا جائے گا۔

More News