دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں اور انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے، بصورت دیگر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف مجموعی طور پر 40 ہزار 348 آپریشن کیے گئے، جن کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 کارروائیاں کیں، جبکہ ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سب سے زیادہ آپریشن کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 971 کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جبکہ ملک بھر میں 28 خودکش حملے بھی ریکارڈ کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے، جبکہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ وہاں کے حالات کو حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض بااثر عناصر اور سردار نہیں چاہتے کہ عام شہری ترقی کریں، اس لیے ریاست بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شہری کی پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہونی چاہیے، کیونکہ ریاست کے استحکام سے ہی سیاست، معیشت اور تمام ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔



