امریکا جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، ویزا بانڈ پروگرام سے پاکستان مستثنیٰ
واشنگٹن: امریکا نے وزیٹر ویزا کے لیے بعض ممالک کے شہریوں پر قابلِ واپسی مالی ضمانت (ویزا بانڈ) جمع کرانے کے پروگرام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم پاکستان اس پروگرام سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث امریکا جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے یہ ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری کردہ نئی فہرست کے مطابق ویزا بانڈ پروگرام کا اطلاق 50 ممالک کے شہریوں پر ہوگا، جبکہ پاکستان اور بھارت اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ جنوبی ایشیا میں صرف بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری اس پروگرام کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ اس فیصلے سے پاکستانی شہریوں کو امریکی وزیٹر ویزا کے حصول کے دوران اضافی مالی ضمانت جمع کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 2025 میں شروع کیے گئے آزمائشی ویزا بانڈ پروگرام کے کامیاب نتائج کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے نفاذ کے بعد شریک ممالک کے شہریوں کی جانب سے ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں غیرقانونی طور پر قیام، یعنی اوور اسٹے، کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران ان 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے 45 ہزار 488 افراد نے ویزا کی مقررہ مدت سے زیادہ امریکا میں قیام کیا تھا۔ تاہم آزمائشی پروگرام کے ابتدائی دس ماہ کے دوران ایسے واقعات کی تعداد کم ہو کر 50 سے بھی کم رہ گئی، جس کے بعد امریکی حکومت نے اس پالیسی کو مستقل شکل دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ پروگرام ان افراد پر لاگو ہوگا جو امریکی بی ون (B1) کاروباری یا بی ٹو (B2) سیاحتی ویزا کے لیے درخواست دیں گے۔ نئی پالیسی کے تحت امریکی قونصلر افسران ضرورت محسوس ہونے پر درخواست گزار سے ویزا جاری کرنے سے پہلے 10 ہزار سے 20 ہزار امریکی ڈالر تک کی قابلِ واپسی ضمانتی رقم طلب کر سکیں گے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر ویزا ہولڈر تمام شرائط پر عمل کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر امریکا سے واپس چلا جائے تو جمع کرائی گئی پوری رقم واپس کر دی جائے گی۔ تاہم اگر کوئی شخص ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرے یا مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرے تو یہ ضمانتی رقم ضبط کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا اس پروگرام سے مستثنیٰ رہنا پاکستانی شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جس سے امریکا کا سفر کرنے والے افراد کو اضافی مالی بوجھ سے بچنے میں مدد ملے گی۔








