افغانستان سرحد پر تین اہداف پر کارروائی، پاکستان کا 28 دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ
پاکستان نے پیر 21 ستمبر کو افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق کارروائی کے دوران 28 دہشت گردوں سمیت متعدد خودکش بمبار مارے گئے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے افغانستان میں تین اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق ان اہداف میں خودکش بمباروں کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والا ایک مرکز بھی شامل تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کی جانب سے حالیہ حملوں کے تناظر میں کی گئی ہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد ٹھکانے پاکستان کے لیے سکیورٹی خطرے کا باعث بن رہے ہیں، جس کے خلاف کارروائی کی گئی۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی کارروائی کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں شہری علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق صوبہ کنڑ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو مرد ہلاک جبکہ دو خواتین اور دو مرد زخمی ہوئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے۔
اس واقعے کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں واضح فرق موجود ہے۔ پاکستان نے کارروائی کو دہشت گردوں اور ان کے تربیتی مراکز کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت نے شہری آبادی کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق کشیدگی گزشتہ عرصے کے دوران مسلسل اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ کارروائی میں ہونے والے جانی نقصان اور اہداف کی نوعیت سے متعلق دونوں فریقوں کے دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔








