عالمی منڈی میں خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا، امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے کی امید پر بڑی کمی
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی امید نے عالمی تیل کی منڈی میں نمایاں تبدیلی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ سرمایہ کاروں نے ممکنہ سفارتی پیش رفت کو مثبت اشارہ قرار دیتے ہوئے مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر خرید و فروخت کے فیصلے کیے، جس سے برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایک بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل پہلی مرتبہ 13 جولائی کے بعد 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ “آج یا کل” طے پانے کا امکان ہے، جس نے عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا دیا۔
اس بیان کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 79.50 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو گزشتہ کئی ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت بھی 5.5 فیصد سے زیادہ کم ہو کر 75.77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں معمولی بہتری کے باوجود ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 76.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا، جو مارکیٹ میں موجود غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حتمی نتائج، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے تک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے بھی تنازع کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو “انتہائی مثبت مرحلے” میں داخل ہونے کا عندیہ دیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی امیدوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود شپنگ سیکٹر سے وابستہ بعض تجزیہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر معمول پر آنے کے شواہد کا انتظار کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 23 جولائی کو برینٹ خام تیل کی قیمت 100.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی توقعات، سفارتی رابطوں میں تیزی اور ممکنہ معاہدے کی خبروں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے تاحال کسی باضابطہ معاہدے یا اعلان کی تصدیق نہیں کی گئی، جس کے باعث عالمی منڈی کی نظریں آئندہ چند روز کی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔







