حکومت کے ساتھ مل کر اسلامی بینکاری کے فروغ پر کام کر رہے ہیں: گورنر اسٹیٹ بینک
کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک حکومت کے ساتھ مل کر ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ اور ربا سے پاک مالیاتی نظام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا نہ صرف ملکی معیشت بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
کراچی میں منعقدہ سیلانی اسلامک فورم کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے مختلف اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور اس حوالے سے مالیاتی اداروں، حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو سود سے پاک بینکاری کی زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک فری لانسرز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی برآمدی آمدن کو آسانی سے ملک منتقل کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کی ترسیل کو مزید آسان، محفوظ اور تیز بنانے کے لیے بھی نئی سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جس سے ترسیلات زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق ترسیلات زر، برآمدات اور مالیاتی نظم و ضبط کے باعث معاشی استحکام کو فروغ ملا ہے، جبکہ مستقبل میں بھی اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ربا سے پاک مالیاتی نظام کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے، جبکہ اسلامی بینکوں کو ٹی بلز کے متبادل کے طور پر شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام بھی فراہم کر دیا گیا ہے، جس سے اسلامی بینکاری کے شعبے کو مزید تقویت ملے گی۔
کانفرنس میں علمائے کرام، ماہرین معیشت، ممتاز بینکاروں، مالیاتی ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے اسلامی مالیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی اہمیت، پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی میں اسلامی اقتصادی اصولوں کے کردار، مالیاتی جدت، پائیدار ترقی اور شریعت کے مطابق کاروباری ماڈلز پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ اسلامی بینکاری نہ صرف سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ ایک منصفانہ، شفاف اور پائیدار مالیاتی نظام کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت، اسٹیٹ بینک اور مالیاتی اداروں کے باہمی تعاون سے اسلامی بینکاری کے فروغ کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔








