ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق وزارت خزانہ کی وضاحت جاری

ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق وزارت خزانہ کی وضاحت جاری

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے وفاقی سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں، الاؤنسز اور تنخواہوں سے متعلق گردش کرنے والی مختلف خبروں اور سوشل میڈیا پر زیر گردش اطلاعات کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق تمام فیصلے صرف وفاقی حکومت کی منظوری اور باقاعدہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی نافذ العمل ہوتے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ دنوں میں ملازمین کی بنیادی تنخواہوں، مختلف الاؤنسز اور تنخواہوں کے ڈھانچے میں تبدیلی سے متعلق متعدد غیر مصدقہ خبریں اور دستاویزات سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن سے ملازمین میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی بھی غیر سرکاری اطلاع پر یقین نہ کیا جائے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات کو مستند سمجھا جائے۔

وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں، خصوصی الاؤنسز، ایڈہاک ریلیف، ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور دیگر مراعات سے متعلق تمام فیصلے طے شدہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کا باضابطہ اعلان وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن یا سرکاری اعلامیے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتی ہے اور ان سے متعلق تمام مالی معاملات قومی مالیاتی گنجائش، معاشی صورتحال اور بجٹ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی نئی تجویز یا تبدیلی کو حتمی قرار دینے سے قبل متعلقہ اداروں سے مشاورت اور حکومتی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عوام اور سرکاری ملازمین سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں، جعلی نوٹیفکیشنز اور افواہوں سے گریز کریں۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق کسی بھی اہم فیصلے کی صورت میں اس کی بروقت اور باضابطہ اطلاع سرکاری ذرائع کے ذریعے جاری کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

وزارت خزانہ نے تمام ملازمین سے اپیل کی کہ وہ درست معلومات کے لیے صرف سرکاری اعلامیوں اور مستند حکومتی ذرائع پر اعتماد کریں اور غیر تصدیق شدہ خبروں کو آگے پھیلانے سے اجتناب کریں۔

More News