جامعہ پشاور کا بڑا بچت پروگرام، کم انرولمنٹ والے متعدد شعبہ جات ضم کرنے کا فیصلہ
پشاور: جامعہ پشاور نے مالی اخراجات میں کمی، دستیاب وسائل کے بہتر استعمال اور کم انرولمنٹ والے ملتے جلتے مضامین کے تدریسی شعبہ جات کو یکجا کرنے کے لیے جامع بچت پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔
جامعہ پشاور کی اکیڈمک کونسل نے انضمام کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں متعدد تدریسی شعبہ جات کو ضم کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم انضمام کے فیصلوں کی حتمی منظوری سنڈیکیٹ سے لی جائے گی۔
فیصلے کے تحت جغرافیہ، جیو میٹکس اور اربن اینڈ ریجنل پلاننگ کو یکجا کرکے ایک نیا انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح فارسی اور اردو کے شعبہ جات کو بھی ضم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
جامعہ پشاور میں سوشیالوجی اور اینتھروپولوجی کو ایک یونٹ میں شامل کرنے جبکہ پشتو اکیڈمی اور شعبہ پشتو کو بھی یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ آرکیالوجی، ٹورزم اور ہوٹلنگ مینجمنٹ کو ایک مشترکہ شعبے میں شامل کیا جائے گا، جبکہ تاریخ، فلسفہ اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ جات کو بھی ضم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
جامعہ پشاور کی اکیڈمک کونسل نے ریجنل، جینڈر اسٹڈیز اور ہوم اکنامکس سے متعلق مختلف شعبہ جات کو بھی ایک مشترکہ انسٹیٹیوٹ میں ضم کرنے کی منظوری دی ہے۔
جامعہ پشاور کے مطابق شعبہ جات کے انضمام کا بنیادی مقصد کم انرولمنٹ والے ملتے جلتے مضامین کو ایک پلیٹ فارم پر لانا، فیکلٹی اور انتظامی اخراجات میں کمی کرنا اور دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔
دوسری جانب اکیڈمک کونسل نے بی ایس پروگرام کی نئی اسٹڈی اسکیم کی بھی منظوری دے دی ہے، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈبل ڈگری پالیسی بھی اکیڈمک کونسل سے منظور کرلی گئی ہے۔
جامعہ پشاور کے ترجمان کے مطابق شعبہ جات کے انضمام سے تعلیمی سرگرمیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ انسٹیٹیوٹس کے قیام سے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ انضمام کا مقصد کسی مضمون یا تعلیمی سرگرمی کو ختم کرنا نہیں بلکہ محدود وسائل میں بہتر انتظام، اخراجات میں کمی اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
تاہم جامعہ پشاور کے شعبہ جات کے انضمام کا معاملہ اس سے قبل بھی مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگا۔





