کوہستان مالیاتی اسکینڈل، نامزد ملزم کی 40 کروڑ 96 لاکھ روپے کی پلی بارگین منظور
پشاور: کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں نامزد ملزم حریق احمد کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملزم کی جانب سے جمع کرائی گئی 40 کروڑ 96 لاکھ روپے کی پلی بارگین کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حریق احمد نے نیب کے سامنے پلی بارگین کی درخواست جمع کرائی تھی، جس میں 40 کروڑ 96 لاکھ روپے کی رقم واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد اس معاملے میں قانونی کارروائی آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حریق احمد داسو میں عسکری بینک کے آپریشن منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کوہستان مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران ان کے بینک اکاؤنٹ سے 40 کروڑ روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی تھیں، جس کے بعد ان کا نام تحقیقات میں شامل کیا گیا۔
نیب کی جانب سے مختلف مالیاتی معاملات کی تحقیقات کے دوران مشتبہ ٹرانزیکشنز، رقوم کی منتقلی اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ کوہستان اسکینڈل میں بھی متعلقہ مالیاتی ریکارڈ اور لین دین کی تفصیلات کی چھان بین کی گئی، جس کے بعد نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
پلی بارگین نیب قوانین کے تحت ایک قانونی طریقہ کار ہے، جس میں ملزم تحقیقات یا مقدمے کے دوران طے شدہ شرائط کے مطابق رقم یا اثاثے واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کرتا ہے۔ تاہم پلی بارگین کی منظوری کے بعد بھی اس کے قانونی اور عدالتی مراحل قواعد کے مطابق مکمل کیے جاتے ہیں۔
حریق احمد سے متعلق معاملے میں اب 40 کروڑ 96 لاکھ روپے کی رقم کی واپسی اور دیگر متعلقہ قانونی کارروائی اہم مرحلہ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے اسکینڈل کے دیگر پہلوؤں اور ممکنہ طور پر ملوث افراد سے متعلق تحقیقات بھی جاری ہیں۔
کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں سامنے آنے والی ٹرانزیکشنز اور مالی معاملات کی مزید چھان بین کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ رقم کی منتقلی کس مقصد کے تحت ہوئی اور اس پورے معاملے میں دیگر افراد کا ممکنہ کردار کیا تھا۔





