خیبرپختونخوا میں دودھ کی خصوصی چیکنگ مہم مکمل، 53 ہزار لیٹر سے زائد ناقص دودھ تلف
پشاور: خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے صوبے میں ایک ماہ تک جاری رہنے والی خصوصی دودھ چیکنگ اور ٹیسٹنگ مہم مکمل ہوگئی، جس کے دوران دودھ بردار گاڑیوں، ڈیری فارمز، ہول سیل سپلائرز اور دودھ کی دکانوں کی بڑے پیمانے پر چیکنگ کی گئی۔
فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق صوبے کے مختلف داخلی راستوں اور بین الاضلاعی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کے دوران بھی دودھ کے نمونے حاصل کرکے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے فوری جانچ کی گئی۔
خصوصی مہم کے دوران صوبہ بھر میں دودھ کے مجموعی طور پر 1205 نمونے چیک کیے گئے، جن میں 938 نمونے معیار کے مطابق جبکہ 267 نمونے غیر معیاری قرار پائے۔ مجموعی طور پر دودھ کے 78 فیصد نمونے معیاری پائے گئے۔
ضلع وار کارروائی کے دوران پشاور میں 314، ڈیرہ اسماعیل خان میں 153، ایبٹ آباد میں 111 اور سوات میں 81 دودھ کے نمونے چیک کیے گئے۔ مردان میں 76، چارسدہ میں 62، نوشہرہ میں 57، کرک میں 55 اور بنوں میں 54 نمونے چیک کیے گئے۔
اسی طرح صوابی میں 53، ہری پور میں 41، مانسہرہ میں 34، ملاکنڈ میں 27، لوئر دیر میں 26 جبکہ بونیر میں 23 دودھ کے نمونے چیک کیے گئے۔
فوڈ اتھارٹی کے مطابق غیر معیاری دودھ کے نمونوں میں پانی، کاسٹک سوڈا، مختلف کیمیکلز، فارملین اور کم چکنائی سمیت متعدد اقسام کی ملاوٹ کی نشاندہی ہوئی۔
مہم کے دوران 53 ہزار 478 لیٹر غیر معیاری اور ناقص دودھ تلف کیا گیا، جبکہ دودھ کے معیار سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر متعلقہ کاروباری افراد کو مجموعی طور پر 47 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ خلاف ورزی کرنے والے کاروباری افراد کو بہتری کے نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔
خصوصی مہم کے دوران دودھ کی ترسیل کے نظام کو منظم کرنے کے لیے 143 دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی کی گئی۔
معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ غیر معیاری دودھ کی فروخت کی روک تھام اور عوام کو محفوظ و معیاری دودھ کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن کا مقصد دودھ کے ذرائع اور سپلائی چین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ دودھ کہاں سے آتا ہے اور کہاں سپلائی کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر محمد اسرار خان کے مطابق محفوظ اور معیاری دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ ملاوٹ اور غیر معیاری دودھ کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔





