پشاور: صوبائی محتسب کے پاس ہزاروں کیسز، خواتین کو 4.1 ارب روپے کی جائیدادیں دلانے کا دعویٰ

پشاور: صوبائی محتسب کے پاس ہزاروں کیسز، خواتین کو 4.1 ارب روپے کی جائیدادیں دلانے کا دعویٰ

پشاور: صوبائی خاتون محتسب خیبرپختونخوا رباب مہدی نے کہا ہے کہ خواتین کو ہراسمنٹ اور وراثتی حقوق سے متعلق کیسز میں مفت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے اقدامات تیز کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین کو تقریباً 4.1 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں اور وراثتی حقوق دلائے گئے ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی خاتون محتسب رباب مہدی نے بتایا کہ ان کے ادارے کے پاس 2 ہزار 397 سے زائد کیسز زیر التوا تھے، جنہیں جلد انصاف کی پالیسی کے تحت تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ 80 سے 100 تک کیسز کے فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ نئے کیسز بھی مسلسل رجسٹرڈ ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک تقریباً 20 ہزار کیسز کی شنوائی کی جاچکی ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 30 نئے کیسز بھی رجسٹر ہو رہے ہیں۔ صوبائی محتسب کے مطابق خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے مفت انصاف تک رسائی حاصل ہے اور ادارے کا بنیادی ہدف ان خواتین کو انصاف فراہم کرنا ہے جن کی آواز عام طور پر نہیں سنی جاتی۔

رباب مہدی نے بتایا کہ وراثتی حقوق کے حوالے سے 96 کمیشن تشکیل دیے گئے، جبکہ ایک سال کے دوران تقریباً 4.1 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں خواتین کو ان کے وراثتی حقوق کے تحت دلائی گئیں۔ حالیہ سرکاری معلومات کے مطابق بھی صوبائی محتسب نے خواتین کے قانونی اور شرعی حقوق کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اور ہزاروں سماعتوں کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں خواتین کو وراثتی حق نہ ملنے یا ہراسانی کا سامنا ہونے کی صورت میں متعلقہ سرکاری اداروں سے رابطہ کرکے انصاف تک رسائی یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض کیسز میں خواتین کو شدید سماجی دباؤ اور تذلیل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

صوبائی محتسب کے مطابق خواتین کے مسائل کے فوری حل کے لیے مصالحتی ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً 70 فیصد کیسز حل کیے گئے۔ ان کے بقول بعض معاملات میں خواتین کو ان کا حق دلانے کے ساتھ ساتھ خاندانی رشتے بھی بحال ہوئے۔

ہراسمنٹ کیسز کے حوالے سے رباب مہدی نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں، جامعات اور دیگر اداروں میں قائم انکوائری کمیٹیوں کی نگرانی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر ماہ سرکاری اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا نظام بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہراسمنٹ کے زیادہ کیسز صحت، گھریلو شعبے اور جامعات سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیسز کی تعداد میں اضافہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ خواتین کا اداروں پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے مسائل رپورٹ کرنے کے لیے آگے آرہی ہیں۔

صوبائی خاتون محتسب نے مزید بتایا کہ ہر ڈویژن میں پہلی مرتبہ کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں، جہاں خواتین کی شکایات براہ راست سن کر متعلقہ اداروں کو ان کے حل کے لیے ہدایات دی گئیں۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران کو بھی فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے تاکہ خواتین کے مسائل کے حل میں تاخیر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت جھوٹے الزامات ثابت ہونے کی صورت میں شکایت کنندہ خاتون پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے، تاہم اصل مقصد خواتین کو ہراسمنٹ سے تحفظ اور انہیں باوقار ماحول کی فراہمی ہے۔

رباب مہدی کے مطابق صوبائی محتسب نے قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتیں بھی طے کی ہیں تاکہ عوامی شکایات کے ازالے اور قانون سازی کے عمل میں تعاون کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب کا ادارہ ان خواتین تک رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جو دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں اور اپنے قانونی و وراثتی حقوق کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتیں۔ ان کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دلانے اور ہراسمنٹ کے خاتمے کے لیے نگرانی اور کارروائی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

More News