مولانا فضل الرحمان کا متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان کردیا۔
مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں اپوزیشن کے آئندہ سیاسی اور پارلیمانی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا واسع جبکہ محمود خان اچکزئی کے ہمراہ اخونزادہ حسین یوسفزئی اور اسد قیصر موجود تھے۔
ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاملہ ان کے اختیار میں ہوتا تو اب تک بانی پی ٹی آئی کا علاج بھی ہوچکا ہوتا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈران سے مشاورت ہوئی ہے اور اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں مشترکہ اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ اس سلسلے میں مزید مشاورت جاری رہے گی اور آئندہ دنوں میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی جائیں گی۔
مولانا فضل الرحمان نے امید ظاہر کی کہ متحدہ اپوزیشن کے قیام کا یہ ایک اچھا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے لیے بھی ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مختلف سیاسی جماعتیں مشترکہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر غور کرسکیں۔
صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی متحدہ اپوزیشن میں شامل کیا جائے گا؟ اس پر مولانا فضل الرحمان نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت میں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کی صورت میں حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر ایک زیادہ منظم اور مشترکہ اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








