روس کے 89 وفاقی یونٹس کا نظام کیسے چلتا ہے؟ پاکستان کے لیے اہم سبق

روس کے 89 وفاقی یونٹس کا نظام کیسے چلتا ہے؟ پاکستان کے لیے اہم سبق

روس کی 89 وفاقی اکائیوں کا نظام صرف انتظامی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر اختیارات، حکومت اور وسائل کی تقسیم کے اصول پر کام کرتا ہے۔ اگرچہ روس ایک مضبوط مرکزی ریاست ہے، لیکن ہر معاملے کے لیے ماسکو کی طرف دیکھنا ضروری نہیں۔ مقامی اسکول، ہسپتال، سڑکیں اور کئی ترقیاتی امور علاقائی اور مقامی حکومتیں خود سنبھالتی ہیں۔

روس کی وفاقی اکائیوں میں اوبلاست، کرائے، جمہوریہ، خودمختار علاقے اور وفاقی حیثیت رکھنے والے بڑے شہر شامل ہیں۔ بیشتر علاقوں میں انتظامی سربراہ گورنر ہوتا ہے، جبکہ جمہوریاؤں میں سربراہِ جمہوریہ کا عہدہ ہوتا ہے۔ روسی گورنر کا کردار ہمارے روایتی گورنر سے مختلف اور انتظامی اعتبار سے وزیراعلیٰ کے زیادہ قریب ہے۔ علاقائی حکومت، قانون ساز ادارہ، بجٹ اور مختلف سرکاری محکمے اسی سطح پر کام کرتے ہیں۔

روس میں اختیارات مزید نچلی سطح تک منتقل کیے جاتے ہیں۔ مقامی اور میونسپل حکومتیں اپنے دائرۂ کار میں مقامی بجٹ، املاک، ٹیکس اور شہری معاملات دیکھتی ہیں۔ ایک اہم اصول یہ ہے کہ اگر کسی مقامی ادارے کو اضافی ذمہ داری دی جائے تو اس کے ساتھ مالی اور مادی وسائل بھی فراہم کیے جائیں۔

پاکستان کے لیے اس نظام میں ایک اہم سبق موجود ہے۔ یہاں اختیارات وفاق سے صوبوں اور پھر صوبوں سے اضلاع تک پہنچتے پہنچتے محدود ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاً مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی اوپر کی حکومتوں پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔

اصل ضرورت صرف اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ اختیار کے ساتھ وسائل اور جواب دہی کی منتقلی ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کو ذمہ داریاں دی جائیں اور انہیں اسی تناسب سے مالی وسائل بھی فراہم کیے جائیں تو گورننس زیادہ مؤثر اور عوام کے قریب ہوسکتی ہے۔

More News