پمز سانحہ: نومولود بچوں کی اموات، اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات

پمز سانحہ: نومولود بچوں کی اموات، اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے نے اسپتال کے حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی رسپانس اور عملے کی دستیابی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سانحے میں متعدد نومولود بچوں کی اموات پر متاثرہ خاندان غم سے نڈھال ہیں، جبکہ اسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔

متاثرہ والدین کے مطابق بچوں کے وارڈ کا دروازہ مبینہ طور پر باہر سے بند تھا اور آگ لگنے کے وقت وہاں عملے کی موجودگی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے۔ بعض والدین نے سوال اٹھایا کہ ہنگامی صورتحال کے دوران متعلقہ عملہ فوری طور پر کہاں تھا اور ریسکیو اقدامات میں مبینہ تاخیر کیوں ہوئی۔

واقعے پر سیاسی و سماجی شخصیات سمیت صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینئر صحافی حامد میر نے پمز کے حفاظتی اور انتظامی نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ صحافی عاصمہ شیرازی نے بھی واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت پر زور دیا۔

صحافی آمنہ جنجوعہ سمیت دیگر صحافیوں نے بھی متاثرہ خاندانوں کی حالت زار اور مبینہ انتظامی غفلت پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ فہد حسین، نصرت جاوید اور فریحہ ادریس نے بھی سوشل میڈیا پر سانحے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

واقعے کے بعد انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حقائق سامنے لائے جائیں اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پمز ملک کے اہم ترین سرکاری اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سانحے نے ایک بار پھر اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، عملے کی دستیابی اور مریضوں کے تحفظ کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت اجاگر کردی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اب ناگزیر ہیں۔

More News

Breaking

بیلجیئم میں تعمیراتی کام کے دوران دیواروں سے اربوں روپے مالیت کا سونا برآمد مشرقی فلینڈرز میں مکان کی مرمت کے دوران سونے کی اینٹیں

Read More »