سانحہ پمز حادثہ ہے، کوتاہی ثابت ہوئی تو کارروائی ہوگی، مصطفیٰ کمال
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے دلخراش واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی قسم کی کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پمز کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملکی تاریخ کا یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جہاں نومولود بچوں کی نگہداشت کے یونٹ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے متاثرہ والدین اور لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے انہیں صبر جمیل عطا کرنے کی دعا کی۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وہ سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں، جبکہ جس شخص کی بھی غفلت ثابت ہوئی اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کے مطابق کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی اور واقعے کی تحقیقات کے نتائج سب کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے آتشزدگی کی ابتدائی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شام 6 بج کر 38 منٹ پر اے سی کے اندر سے اسپارک ہوا، جبکہ ایک منٹ بعد لوگوں کو باہر نکلتے دیکھا گیا۔ ان کے مطابق عملے نے بھی صورتحال دیکھی اور اس حوالے سے ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شعلہ نیچے گرا اور انتہائی مختصر وقت میں پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آگیا، جبکہ آکسیجن نے بھی آگ پکڑ لی اور لائنوں میں شعلے نظر آنے لگے۔
استعفے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں اور وہ وزیراعظم کے ہر حکم کی پابندی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی افسر کو تعینات یا معطل کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے اور وہ خود کو وزیراعظم کے سامنے احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ضروری ہدایات جاری کردی ہیں اور وہ صبح سے وزیراعظم سے رابطے میں ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق وہ وزیراعظم کو صورتحال سے آگاہ کریں گے اور کوشش کی جائے گی کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔







