راولپنڈی کے بڑے اسپتال بھی غیرمحفوظ، فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھ گئے

راولپنڈی کے بڑے اسپتال بھی غیرمحفوظ، فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد: پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے کے بعد راولپنڈی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات کی صورتحال پر تشویش سامنے آگئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق راولپنڈی کے متعدد بڑے اسپتال آتشزدگی کے خطرے سے دوچار ہیں اور وہاں فائر سیفٹی نظام مکمل طور پر فعال نہیں۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بینظیر بھٹو اسپتال اور ہولی فیملی اسپتال میں فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات مکمل نہیں کیے گئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق پی کے ایل آئی یورالوجی اسپتال کا فائر سیفٹی سسٹم بھی غیر فعال ہے، جبکہ راولپنڈی کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں بھی فائر رسک موجود ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کئی اسپتالوں میں ایمرجنسی ایگزٹ یا تو موجود نہیں یا پھر انہیں بند رکھا گیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر ایمرجنسی راستوں پر تالے لگے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی ہنگامی واقعے کے دوران مریضوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں آگ بجھانے والے آلات بھی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اسپتالوں میں فائر ڈیٹیکشن سسٹم موجود نہیں جبکہ فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب بھی نہیں کی گئی۔

پمز سانحے کے بعد سامنے آنے والی ان تفصیلات نے اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی نظام کی فوری جانچ کی ضرورت کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حساس طبی مراکز میں حفاظتی انتظامات کو کسی بڑے سانحے کا انتظار کیے بغیر بہتر بنایا جانا چاہیے۔

More News

Breaking

بیلجیئم میں تعمیراتی کام کے دوران دیواروں سے اربوں روپے مالیت کا سونا برآمد مشرقی فلینڈرز میں مکان کی مرمت کے دوران سونے کی اینٹیں

Read More »