ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کی حد بندی پر اتفاق

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کی حد بندی پر اتفاق

پاسداران انقلاب کا دعویٰ، آبنائے ہرمز سے حاصل آمدنی میں دونوں ممالک کا حصہ ہوگا

تہران: پاسداران انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی حد بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ایران اور عمان دونوں کا حصہ ہوگا۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکراتی عمل میں امریکا کی مبینہ مداخلت کے باعث تاخیر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران اپنے مؤقف اور شرائط پر قائم ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی کے وسائل عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔

ایرانی صدر نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ فوجی حملوں کی طرح اقتصادی ناکہ بندی بھی ناکام ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر اقتصادی دباؤ ڈال کر کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مسائل کو مذاکرات اور باہمی تعاون کے ذریعے حل کرنا ایران کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں اور باہمی مذاکرات کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تحفظ ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اپنی طاقت اور صلاحیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ایرانی حکام کے حالیہ بیانات کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ خطے میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں پر اس پیش رفت کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

More News