آئندہ مالی سال سے بی آئی ایس پی کی سہ ماہی قسط 18 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے آئندہ مالی سال سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق خاندانوں کو دی جانے والی سہ ماہی مالی امداد میں نمایاں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت مستحق افراد کو ملنے والی سہ ماہی قسط بڑھا کر 18 ہزار روپے کر دی جائے گی، جس سے ملک بھر کے لاکھوں کم آمدنی والے خاندان مستفید ہوں گے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی غریب اور مستحق خاندانوں کی معاشی بحالی، خودمختاری اور عزتِ نفس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کو درپیش معاشی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر امدادی رقم میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ مستحق خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی سہارا فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے جو لاکھوں خاندانوں کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام نے نہ صرف غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ معاشی طور پر کمزور طبقے کو بااختیار بنانے میں بھی مدد دی ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے پروگرام کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ بی آئی ایس پی شفافیت اور مؤثر کارکردگی کے ساتھ مستحق افراد کی خدمت کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
اس موقع پر انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2026 سے بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ادائیگیوں کے نظام کو جدید، شفاف اور محفوظ بنانا ہے تاکہ مستحق افراد کو مالی امداد کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ بدعنوانی، غیر قانونی کٹوتیوں اور ادائیگیوں میں تاخیر جیسے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے فروغ اور مالی شمولیت کے عمل کو بھی مضبوط بنائے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی کی امدادی رقم میں اضافہ موجودہ معاشی حالات میں ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے کم آمدنی والے خاندانوں کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور وہ خوراک، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
واضح رہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کئی برسوں سے ملک کے غریب اور پسماندہ طبقات کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے قسط میں اضافے اور ادائیگیوں کے ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کو سماجی تحفظ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آنے کی توقع ہے








