کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کی پہلی سرجری کامیاب، صحت میں بہتری کے آثار
کراچی: کوئٹہ میں تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کے علاج سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ان کی پہلی سرجری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو پہلے کے مقابلے میں بہتر قرار دیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کو تیزاب حملے کے بعد فوری طبی امداد فراہم کی گئی تھی، تاہم زخموں کی شدت کے باعث انہیں مزید بہتر علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ماہر پلاسٹک سرجنز اور دیگر طبی ماہرین کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق پہلی سرجری کے دوران جسم کے متاثرہ حصوں سے مردہ جلد کو احتیاط سے ہٹایا گیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزاب سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں یہ ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے، جس سے متاثرہ حصوں میں انفیکشن کے خطرات کو کم کرنے اور آئندہ علاج کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور کے اہل خانہ نے بتایا کہ آپریشن کے بعد ان کی عمومی حالت میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم تیزاب سے لگنے والے گہرے زخموں کے باعث انفیکشن کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خصوصی نگرانی میں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے جراثیمی انفیکشن سے محفوظ رکھا جا سکے۔
طبی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کے علاج کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوگا۔ آئندہ دنوں میں مزید سرجریز کی جائیں گی جن میں متاثرہ جلد کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ نئی جلد کی پیوندکاری بھی شامل ہوگی۔ ماہرین کے مطابق جلد کی پیوندکاری متاثرہ حصوں کی بحالی اور ظاہری شکل کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں منگل کے روز ہونے والی پہلی سرجری آٹھ گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہی۔ آپریشن میں پلاسٹک سرجری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹروں نے حصہ لیا اور متاثرہ چہرے پر ابتدائی نوعیت کی جلد کی پیوندکاری بھی کی گئی۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی بڑی یا پیچیدہ سرجری نہیں کی گئی، جبکہ مریضہ کی مجموعی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کا اگلا مرحلہ طے کیا جائے گا۔
ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ڈاکٹر ماہ نور کی صحت کی نگرانی کر رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ان کی حالت کو چوبیس گھنٹے مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید طبی اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ تیزاب سے متاثرہ مریضوں کی بحالی ایک طویل اور حساس عمل ہوتا ہے جس میں صبر اور مسلسل طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کا تیسری مرتبہ تفصیلی طبی معائنہ بھی کیا گیا ہے جس میں پلاسٹک سرجنز کے علاوہ آنکھوں کے ماہر سرجنز نے بھی شرکت کی۔ معائنے کے دوران مختلف طبی ٹیسٹ کیے گئے تاکہ زخموں کی نوعیت، بینائی پر ممکنہ اثرات اور مجموعی صحت کی صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان اور حکومت سندھ متاثرہ ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دونوں صوبائی حکومتیں علاج کے تمام مراحل کی نگرانی کر رہی ہیں اور مریضہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا تیزاب حملہ نہ صرف طبی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ مختلف سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرہ ڈاکٹر کو مکمل انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طبی ماہرین پر امید ہیں کہ مسلسل علاج، جدید طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی کے باعث ڈاکٹر ماہ نور کی صحت میں مزید بہتری آئے گی، تاہم ان کی مکمل بحالی کے لیے ابھی کئی مراحل طے کرنا باقی ہیں۔








