اسلام آباد میں مکان فضل الرحمن کے نام کی بجائے امان اللہ نامی شخص کے نام پر خریدا گیا؟
اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کی گلی نمبر 83 اور 84 میں متعدد مکانات کی مبینہ ملکیت اور خریداری کے مالی ذرائع سے متعلق مختلف سوالات سامنے آئے ہیں۔ ان جائیدادوں کو مبینہ طور پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان سے منسلک کیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
دستیاب الزامات کے مطابق گلی نمبر 83 میں واقع ایک مکان 2018 میں مبینہ طور پر امان اللہ نامی شخص کے نام پر خریدا گیا تھا۔ اس حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ مکان کی خریداری کے اصل مالی ذرائع کیا تھے اور اس میں کسی دوسرے شخص کا مفاد یا کردار شامل تھا یا نہیں۔
اسی طرح گلی نمبر 84 میں واقع ایک مکان کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سینیٹر دلاور خان کی جانب سے سینیٹ ٹکٹ کے عوض بطور تحفہ دیا گیا تھا۔ اس دعوے کے تناظر میں تحفے کی قانونی حیثیت، مالی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
الزامات میں مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کی نتھیا گلی میں ایک ہوٹل میں مبینہ کاروباری شراکت داری اور خاندان سے منسوب دبئی سمیت بیرون ملک جائیدادوں کے مالی ذرائع سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ کاری قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور کیا ان کی مکمل تفصیلات متعلقہ اثاثہ جات کے گوشواروں میں ظاہر کی گئی ہیں؟
عوامی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سی ڈی اے ریکارڈ، جائیدادوں کی خریداری کی دستاویزات، مالی لین دین اور متعلقہ اثاثوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ تمام الزامات کی حقیقت سامنے آسکے۔
تاحال ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ افراد کا مؤقف اور دستاویزی تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔








