پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ: حکومت کیساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے، لیاقت بلوچ

مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک دوبارہ آگے بڑھائی جائے گی

جماعت اسلامی کا مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، عوام کو ریلیف نہ ملنے پر نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد مارچ دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر عوام کو مجوزہ ریلیف پیکج کے ذریعے خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچا تو احتجاجی تحریک دوبارہ آگے بڑھائی جائے گی۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر نے کہا ہے کہ پارٹی مذاکرات کے عمل کو جاری رکھے گی، تاہم عوامی مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔

جماعت اسلامی نے حکومت کو اپنے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے مزید مہلت دے رکھی ہے۔ پارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل 27 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی تھی، جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے مسائل کے حل اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

مشترکہ کمیٹی کو سرکاری فیول ریلیف اسکیم میں توسیع اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی سے متعلق تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ حکومتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر احسن اقبال اور رانا ثنااللہ شامل ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنما مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے 17 ستمبر سے ملک بھر میں ایندھن پر ریلیف اسکیم شروع کر رکھی ہے۔ اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد مہنگے ایندھن کے اثرات سے کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے اور حکومت کو اسے ختم کرنے یا اس میں نمایاں کمی کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد جماعت اسلامی نے حکومتی درخواست پر ملتان پہنچنے کے بعد اسلام آباد مارچ مؤخر کردیا تھا۔ تاہم جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور مطالبات پر عمل درآمد نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کی جاسکتی ہے۔

More News