اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، 100 انڈیکس میں 516 پوائنٹس اضافہ، امریکی ڈالر مزید سستا

کراچی: کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ ابتدائی کاروبار کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 516 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

مارکیٹ کے ابتدائی سیشن میں 100 انڈیکس بڑھ کر 1 لاکھ 78 ہزار 716 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید بہتری کا اظہار ہوا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ معاشی اشاریوں میں بہتری، سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مثبت کاروباری ماحول نے مارکیٹ کی کارکردگی کو سہارا دیا ہے۔

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 2 پیسے سستا ہو گیا، جس کے بعد ڈالر 277 روپے 75 پیسے کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں استحکام اور زرمبادلہ کی بہتر صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں معاشی استحکام کے آثار، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، ترسیلاتِ زر میں بہتری اور مالیاتی شعبے میں مثبت پیش رفت نے اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مارکیٹ مزید مضبوط سطحیں حاصل کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس میں 2,480 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور انڈیکس 1 لاکھ 78 ہزار 573 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 1 لاکھ 76 ہزار 94 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس سے مارکیٹ کی مسلسل مثبت سمت واضح ہوتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں ممکنہ کمی، عالمی سطح پر سفارتی پیش رفت، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے بہتر اعتماد نے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کو نئی توانائی فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشی اشاریے اسی طرح مضبوط رہے تو نہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار رہ سکتی ہے بلکہ روپے کی قدر میں بھی مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔

More News