افغانستان میں ڈرون حملوں کے مبینہ مراکز پر پاکستانی کارروائی

افغانستان میں ڈرون حملوں کے مبینہ مراکز پر پاکستانی کارروائی

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان سے مبینہ ڈرون دراندازی کے بعد افغان سرزمین پر 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی تصدیق کردی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کارروائی میں ان مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق پاک فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام نے افغانستان سے آنے والے ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں پاکستانی حدود میں اہداف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنایا، جس کے بعد افغانستان کے اندر مبینہ ڈرون مراکز کے خلاف کارروائی کی گئی۔

افغان ذرائع کے مطابق خیبر، خوست اور پکتیا کے مختلف علاقوں کے علاوہ قندھار شہر کے ایک علاقے میں بھی پاکستانی فضائی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ قندھار کے ایک رہائشی نے جنگی طیارے کی آواز کے بعد زور دار دھماکے اور آگ کے شعلے دیکھنے کی اطلاع دی۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی مخصوص فوجی اہداف تک محدود اور حالیہ مبینہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ دوسری جانب افغان حکام نے کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے بعض مقامات پر حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

یہ کارروائی پاک افغان سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل 21 ستمبر کو پاکستان نے پکتیکا اور کنڑ میں کارروائی کے دوران 28 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ نے 3 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

تازہ کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

More News