امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
لندن: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی اور سیاسی تناؤ برقرار ہے، تاہم تیل کی سپلائی متاثر نہ ہونے اور تیل بردار جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت جاری رہنے کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ کم ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.29 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 89.45 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 56 سینٹ یا 0.66 فیصد کمی کے بعد 83.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا انحصار صرف سیاسی کشیدگی پر نہیں بلکہ سپلائی اور طلب کی صورتحال پر بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی بڑے تنازع کے باوجود تیل کی پیداوار، برآمدات اور شپنگ کے راستے متاثر نہ ہوں تو سرمایہ کاروں کا خدشہ کم ہو جاتا ہے، جس سے قیمتوں میں استحکام یا کمی آ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے، جس سے عالمی منڈی کو یہ اطمینان ملا کہ فوری طور پر سپلائی میں کسی بڑی رکاوٹ کا امکان نہیں۔ اسی اعتماد کے باعث سرمایہ کاروں نے خریداری میں احتیاط برتی اور قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری سیشن میں جنگی خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ برینٹ خام تیل تقریباً 7.91 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 6.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل منگل کے روز جنگ میں مختصر وقفے اور کشیدگی میں وقتی کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک کمی بھی دیکھی گئی تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز میں عالمی منڈی کا رخ بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی پیداوار، برآمدات اور بین الاقوامی سفارتی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور سپلائی چین متاثر ہوتی ہے تو قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جبکہ حالات معمول پر رہنے کی صورت میں قیمتوں میں استحکام یا مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔ سرمایہ کار اس وقت خطے کی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور توانائی کی منڈی پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔








