ایرانی وزیر خارجہ کا عراقی ہم منصب سے رابطہ، امریکی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال، ایران اور عراق کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی مبینہ مسلسل خلاف ورزیوں سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطہ، مؤثر سفارتی مشاورت اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جنہیں وقتی بیانات یا انفرادی آراء کی بنیاد پر متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی مبینہ مسلسل خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا اور اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی پاسداری عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کا بنیادی تقاضا ہے، جبکہ ان کی خلاف ورزی خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ اچھے ہمسایہ تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور عراق کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا نہ صرف ایران اور عراق بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے بھی ایران کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے اور مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی تعاون خطے کو درپیش سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اور عراق کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے آئندہ بھی جاری رہیں گے اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔








