نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کا نورین نیازی کو نوٹس، 20 جولائی کو طلبی
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن نورین نیازی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 20 جولائی کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔ نوٹس ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس میں نورین نیازی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ اور وقت پر اسلام آباد میں واقع نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے دفتر میں پیش ہوں۔
نوٹس کے مطابق نورین نیازی کو 20 جولائی کو دن 12 بجے اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں قائم سائبر کرائم آفس میں حاضر ہو کر اپنا مؤقف اور بیان ریکارڈ کرانا ہوگا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ان کی موجودگی ضروری ہے، اس لیے انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق طلب کیا گیا ہے۔
نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے سوشل میڈیا پر ایک مبینہ جھوٹی خبر یا گمراہ کن معلومات پھیلا کر ریاستی ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ایجنسی کے مطابق ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں سے متعلق جھوٹا، اشتعال انگیز اور متنازع مواد شیئر کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، جن کے سلسلے میں ان سے وضاحت اور بیان درکار ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ اگر نورین نیازی مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہوئیں یا نوٹس کی تعمیل نہ کی تو ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 174 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت سرکاری حکم یا قانونی نوٹس کی عدم تعمیل پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر نورین نیازی یا پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی حلقوں کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہ معاملہ سوشل میڈیا سرگرمیوں، ریاستی اداروں سے متعلق مواد اور سائبر قوانین کے نفاذ کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔








