ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات براہِ راست ایشیائی کرنسیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں ممکنہ تصادم اور تیل کی ترسیل کے خدشات کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس سے ڈالر مضبوط جبکہ ایشیائی کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں۔
حالیہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق انڈونیشیا کی کرنسی انڈونیشین روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ روپیہ 17 ہزار 315 فی ڈالر تک گر گیا، جس سے ملکی درآمدات مہنگی اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کے انخلا اور عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نے انڈونیشین معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اسی طرح فلپائن کی کرنسی پیسو بھی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ تھائی لینڈ کی کرنسی باہت میں بھی رواں ماہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے خلیج میں کشیدگی کا براہِ راست اثر ان کی معیشتوں پر پڑتا ہے۔
خلیج میں کشیدہ صورتحال کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا عسکری کارروائی سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے، جس سے درآمد کنندہ ممالک کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہوگا۔
دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق بعض سرنگیں جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے نصب کی گئی ہیں، جس سے ان کی نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو ایشیائی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت، افراطِ زر میں اضافہ اور سرمایہ کاری میں کمی خطے کی معاشی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی کوششیں اور مذاکرات ہی خطے اور عالمی معیشت کو مزید بحران سے بچا سکتے ہیں۔








