رواں سال سرکاری حج اسکیم کے تحت 50 ہزار سے زائد خواتین فریضہ حج کی سعادت حاصل کریں گی، جس سے خواتین کی نمایاں شرکت کا رجحان واضح ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 19 ہزار عازمین کو سرکاری اسکیم کے تحت حج پر بھیجا جائے گا، جن میں خواتین کا تناسب 43.5 فیصد ہے۔
تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ 13 ہزار 869 خواتین عازمین کا تعلق کراچی ریجن سے ہے، جو ملک بھر میں سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر لاہور ریجن ہے جہاں سے 13 ہزار 619 خواتین سرکاری اسکیم کے تحت حج ادا کریں گی۔ اسلام آباد ریجن تیسرے نمبر پر ہے جہاں سے 11 ہزار 573 خواتین عازمین حج کی فہرست میں شامل ہیں۔
ملتان ریجن سے 4 ہزار 264 خواتین سرکاری حج اسکیم کے ذریعے حجاز مقدس روانہ ہوں گی، جبکہ پشاور ریجن سے 3 ہزار 331 خواتین فریضہ حج ادا کریں گی۔ سیالکوٹ ریجن سے 2 ہزار 412 خواتین حج کی سعادت حاصل کریں گی۔ کوئٹہ ریجن سے 709 خواتین شامل ہیں، جن کی شرح مجموعی کوٹے کے لحاظ سے 17.3 فیصد بنتی ہے۔ سب سے کم تعداد سکھر ریجن سے سامنے آئی ہے جہاں سے 337 خواتین حج پر جائیں گی۔
سرکاری حکام کے مطابق اس سال 65 ہزار 182 مرد عازمین بھی سرکاری اسکیم کے تحت حج ادا کریں گے۔ یوں مجموعی طور پر مرد و خواتین عازمین کی بڑی تعداد رواں سال فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگی۔
وزارت مذہبی امور کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین عازمین کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جن میں رہائش، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات شامل ہیں۔ خواتین کے لیے الگ رہنمائی سیشنز اور تربیتی پروگرامز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مناسک حج بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔
حکام کے مطابق عازمین حج کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم، موبائل ایپ اور ہیلپ لائن سروس بھی فعال کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ فلائٹ شیڈول، ویکسینیشن اور دستاویزات کی تکمیل کے عمل کو بھی حتمی مراحل میں داخل کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت نہ صرف سماجی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے خواتین کے عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ توقع ہے کہ رواں سال حج انتظامات کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عازمین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔








