ایم کیو ایم وفدکی وزیراعظم سے ملاقات، کراچی اور حیدرآباد کیلئے 25 ارب کے ترقیاتی پیکج پر اتفاق

ایم کیو ایم وفد کی وزیراعظم سے ملاقات، کراچی اور حیدرآباد کے لیے 25 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج پر اتفاق

اسلام آباد:ویب ڈیسک

وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کے درمیان اہم ملاقات میں کراچی اور حیدرآباد کے لیے 25 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکج پر اتفاق ہو گیا۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، بجٹ تجاویز، بلدیاتی نظام اور سندھ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف شریک ہوئے، جبکہ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے وفاقی بجٹ سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں اور بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل پر بھی گفتگو کی۔ وفد نے سندھ میں گورنر کے معاملے سمیت دیگر سیاسی امور بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے پر کراچی کے لیے 20 ارب روپے جبکہ حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس پیکج کا مقصد دونوں شہروں میں بنیادی ڈھانچے، شہری سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کو بہتر بنانا ہے۔

ملاقات کے دوران بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل بھی زیر بحث آیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ مل کر دیگر سیاسی جماعتوں، بالخصوص پیپلز پارٹی، سے مشاورت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم پاکستان کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرتی ہے اور بلدیاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تعمیری تعاون جاری رکھا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کے لیے ترقیاتی پیکج اور آئینی اصلاحات سے متعلق پیش رفت سندھ کی سیاست اور شہری ترقی کے حوالے سے اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

More News