اے این ایف بھرتی کیس میں بڑا موڑ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا نئی بھرتیوں پر حکمِ امتناع

اے این ایف بھرتی کیس میں بڑا موڑ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا نئی بھرتیوں پر حکمِ امتناع

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کی نئی بھرتیوں کے عمل پر عارضی حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے ادارے کو نئی آسامیوں کے لیے جاری اشتہار پر مزید پیش رفت سے روک دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم اے این ایف کے ایک کانسٹیبل کی درخواست پر جاری کیا اور کیس کی مزید سماعت 22 اگست کو مقرر کردی۔

جسٹس محمد اعظم خان نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست قابل سماعت قرار دی، تاہم حتمی فیصلہ فریقین کے دلائل اور قانونی نکات سننے کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب اے این ایف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نئی بھرتیوں کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق جاری تھا اور موجودہ ملازمین کے حقوق، سینیارٹی اور ترقی کے معاملات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں محکمانہ ترقیاتی کمیٹی کے تین اجلاس ہوچکے ہیں، جبکہ ایک اور اجلاس بھی زیرعمل ہے جسے 2026 کی بھرتیوں کو حتمی شکل دینے سے قبل مکمل کرلیا جائے گا۔

اے این ایف کا کہنا ہے کہ موجودہ بھرتیاں صرف ان آسامیوں پر کی جا رہی ہیں جو براہ راست بھرتی کے ذریعے پُر کی جا سکتی ہیں، جبکہ ترقی کے لیے مختص نشستیں اس عمل میں شامل نہیں ہیں۔ ادارے نے تبادلوں اور سیکنڈمنٹ سے متعلق اعتراضات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام تقرریاں اور تبادلے متعلقہ قواعد کے تحت کیے جاتے ہیں۔

اے این ایف کے مطابق حکمِ امتناع ادارے کا مؤقف سنے بغیر جاری کیا گیا، جس کے خلاف جلد سماعت کی درخواست دائر کی جائے گی اور بھرتی کا عمل جاری رکھنے کی استدعا کی جائے گی۔ ادارے نے خبردار کیا کہ بھرتیوں میں غیر ضروری تاخیر سے منشیات کے خلاف کارروائیوں میں اس کی استعداد متاثر ہوسکتی ہے۔

More News