بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کیس، دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مقدمے پر تحریری فیصلہ مناسب وقت پر جاری کیا جائے گا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی، جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران 30 جون کے عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی گئی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں کسی قسم کی قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں قانون کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو صرف حفاظتی انتظامات کے تحت رات کے چند گھنٹوں کے لیے سیل میں بند کیا جاتا ہے، جسے قانونی طور پر قیدِ تنہائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور سپریم کورٹ بھی ان سہولیات پر اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے علاج کا معاملہ اس مقدمے کا حصہ نہیں ہے، اس لیے اس پر الگ سے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہر وقت ایک سزا یافتہ مشقتی موجود رہتا ہے، اس لیے انہیں تنہا نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدِ تنہائی کی قانونی تعریف کے مطابق قیدی کو مسلسل 24 گھنٹے مکمل طور پر اکیلے سیل میں رکھا جاتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال اس تعریف پر پوری نہیں اترتی۔

دوران سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جاتی تو اس سے معاملے کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوتی۔ انہوں نے فریقین کو ہدایت کی کہ اگر وہ کسی عدالتی نظیر یا سابقہ فیصلے کا حوالہ دینا چاہتے ہیں تو وہ تحریری صورت میں عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے معاملات میں فریقین کے درمیان ایک متفقہ طریقہ کار یا ایس او پی بھی طے کیا جا سکتا تھا۔

بعد ازاں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں سے متعلق معاملہ حل ہو چکا ہے اور پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی رپورٹ بھی منظرعام پر آ چکی ہے۔ تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تحریری حکم بعد میں جاری کیا جائے گا۔

More News

Breaking

آیت نور کے گھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد، اہلخانہ سے تعزیت،ایت نور کےوالد آبدیدہ ، ملزمان کو سخت سزا دلانے کا عزم

آیت نور کے گھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد، اہلخانہ سے تعزیت، ملزمان کو سخت سزا دلانے کا عزم ہری پور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

Read More »