خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس یا مفادات کی سیاست
پشاور: سید عدنان
خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس کے دعوے اپنی جگہ مگر عملی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق متعدد سرکاری افسران کو مختلف پیشہ ورانہ کورسز کے لیے فارغ کیا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود صوبے میں ان کی جگہ تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔
انتظامی قواعد کے مطابق جب کوئی افسر کورس پر جاتا ہے تو اس کی جگہ فوری طور پر دوسرے افسر کی تعیناتی کی جاتی ہے تاکہ سرکاری امور متاثر نہ ہوں۔ لیکن حیران کن طور پر بعض بااثر افسران ایسے بھی ہیں جو کورس جاری ہونے کے باوجود بدستور اپنے عہدوں پر براجمان ہیں اور عملاً دونوں فوائد حاصل کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے بیوروکریسی کے اندر شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ کئی افسران عرصہ دراز سے تبادلوں اور پوسٹنگ کے منتظر ہیں مگر سفارش اور اثر و رسوخ رکھنے والے افسران بدستور اہم عہدوں پر قابض ہیں۔
ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے مطابق اگر یہی طرز حکمرانی اور یہی گڈ گورننس ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شفافیت اور میرٹ کہاں ہے؟ کیا قواعد صرف کمزور افسران کے لیے ہیں جبکہ بااثر افراد کے لیے الگ نظام چل رہا ہے؟
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ انتظامی معاملات میں واضح اور یکساں پالیسی اپنائی جائے تاکہ بیوروکریسی میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو اور گڈ گورننس کے دعوے عملی طور پر بھی نظر آئیں۔








