حکومت کا کشمیر کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کو ویلکم کرنے کا اعلان

حکومت کا کشمیر معاملے پر مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم

اسلام آباد: حکومت نے کشمیر کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے والی ہر کوشش کو سراہا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے اور اب اس معاملے پر فیصلہ نئی منتخب اسمبلی کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کا مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات کو متاثر یا رکوانا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے سوال اٹھایا کہ کیا دھرنوں اور جتھوں کے ذریعے انتخابات کو روکا جا سکتا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ جمہوری عمل کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کر دی جائیں، تاہم پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے مہاجرین کو ان کے حقِ نمائندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف آزاد کشمیر اسمبلی کے پاس ہے۔

مشیر وزیراعظم نے مزید کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آئینی اور قانونی نوعیت کا ہے۔ اس حوالے سے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے سفارشات مرتب کر کے آزاد کشمیر حکومت کو پیش کرنا تھیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا تحریکِ آزادی کشمیر کے بنیادی مقاصد کے منافی ہوگا، اس لیے اس معاملے پر آئینی تقاضوں اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

More News