خالد شیخ محمد کے خلاف 2028 میں مقدمے کی سماعت کا فیصلہ، 9/11 کے مبینہ منصوبہ ساز راولپنڈی سے گرفتار ہوئے تھے
خالد شیخ محمد، جنہیں امریکی حکومت 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے اہم مبینہ منصوبہ سازوں میں شمار کرتی ہے، کے خلاف مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی فوجی جج نے خالد شیخ محمد سمیت چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے۔
خالد شیخ محمد گزشتہ کئی برس سے امریکی حراست میں ہیں اور ستمبر 2006 سے گوانتانامو بے میں قید ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا تھا، جس کے تحت جرم قبول کرنے کے بدلے انہیں سزائے موت سے بچنے کی راہ ہموار ہونی تھی، تاہم امریکی وفاقی اپیل عدالت نے بعد میں اس معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔
خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ انہوں نے 9/11 حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان حملوں میں ہائی جیک کیے گئے مسافر طیاروں کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون سے ٹکرایا گیا تھا، جبکہ ایک اور طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا تھا۔
بی بی سی کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق 1996 کے اواخر میں افغانستان کے پہاڑی علاقے تورا بورا میں خالد شیخ محمد اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کا انتظام القاعدہ کے فوجی کمانڈر محمد عاطف نے کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق خالد شیخ محمد نے اسامہ بن لادن کے سامنے امریکی طیاروں کو ہائی جیک کرکے انہیں امریکہ کی اہم عمارتوں سے ٹکرانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ یہ منصوبہ بعد میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی صورت میں سامنے آیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خالد شیخ محمد نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شدت پسند سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔
خالد شیخ محمد کو مارچ 2003 میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری امریکی خفیہ اداروں کی ایک طویل کارروائی کے بعد عمل میں آئی، جس کے بعد انہیں مختلف مقامات پر خفیہ حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں گوانتانامو منتقل کردیا گیا۔
اب 9/11 حملوں کے تقریباً 27 سال بعد ان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے کا امکان ہے۔ مقدمے میں خالد شیخ محمد کے ساتھ دیگر ملزمان بھی شامل ہیں، جبکہ عدالت میں ان کے خلاف عائد الزامات، شواہد اور قانونی معاملات پر تفصیلی کارروائی ہوگی۔
یہ مقدمہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملوں میں سے ایک کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری قانونی کارروائی کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔








