فیلڈ مارشل کا دورہ ایران، ’امریکی نمائندہ بن کر جانے کا دعویٰ گمراہ کن‘: دفتر خارجہ
اسلام آباد: پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران خطے میں جاری امریکہ ایران تنازع کے خاتمے اور سفارتی حل کی کوششوں کا حصہ تھا۔ دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا واشنگٹن کے نمائندے کے طور پر کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جو پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔
ترجمان کے مطابق دورے کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے کم کیا جائے تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام سے بچا جاسکے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے دوران پاکستانی وفد نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر سے ملاقات کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے اسے سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی قیادت کا یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور عدم استحکام کے خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کے امکانات پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو صدر ٹرمپ یا امریکا کا نمائندہ قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ دورہ مکمل طور پر پاکستان کے ثالثی کردار کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس موقع پر اسلام آباد کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے ایک پرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔








