خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی تحفظ ادارے کے اہلکاروں پر چیف سیکرٹری کے نام پر مبینہ وصولیوں کا الزام
پشاور: خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ادارے کے بعض اہلکاروں پر صنعتی مالکان سے این او سی اور دیگر مدات کے نام پر مبینہ طور پر ماہانہ رقم وصول کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض اہلکار صنعتی مالکان سے مبینہ طور پر یہ کہہ کر رقم طلب کرتے ہیں کہ وصول کی جانے والی رقم میں سے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کو بھی حصہ دیا جاتا ہے۔
صنعتی مالکان کی جانب سے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مبینہ وصولیوں سے متعلق صنعتی مالکان نے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے سربراہ سمیت متعلقہ اینٹی کرپشن اداروں کو درخواستیں بھی جمع کرا دی ہیں۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ این او سی کے اجرا اور دیگر معاملات میں مبینہ طور پر ہونے والی غیر قانونی وصولیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا کرپشن کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
صنعتی مالکان کا مؤقف ہے کہ سرکاری اجازت ناموں اور دیگر امور کے لیے کسی بھی قسم کی غیر قانونی ماہانہ وصولی نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ سرکاری اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔
دوسری جانب چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ سے منسوب مبینہ دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ اس حوالے سے چیف سیکرٹری یا متعلقہ محکمہ کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
واضح رہے کہ معاملہ فی الحال الزامات اور درخواستوں کی سطح پر ہے، حتمی حقائق کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔







