خیبرپختونخوا میں کرپٹ اور ناقص افسران کی فہرست تیار کرنے کا حکم

خیبرپختونخوا میں کرپٹ اور ناقص افسران کی فہرست تیار کرنے کا حکم، ایک ہفتے میں رپورٹ طلب

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اداروں میں گڈ گورننس، شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے ناقص کارکردگی، بدعنوانی یا فرائض میں غفلت برتنے والے افسران اور ملازمین کی منفی فہرست (نیگیٹو لسٹ) تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں ایسے افسران اور اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ چیف سیکرٹری آفس کو ارسال کریں۔

یہ فیصلہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سید شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں تمام انتظامی سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز اور مختلف سرکاری محکموں کے انتظامی سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے بھر میں گڈ گورننس روڈ میپ پر ہونے والی پیش رفت، عوامی خدمات کی فراہمی، انتظامی امور اور مختلف محکموں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بروقت، معیاری اور شفاف خدمات فراہم کرنا ہے، تاہم بعض سرکاری افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہے، جس کے باعث نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ حکومتی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے تاکہ سرکاری اداروں کی ساکھ بحال ہو اور عوام کا اعتماد مضبوط بنایا جا سکے۔

چیف سیکرٹری نے تمام انتظامی سربراہان کو ہدایت کی کہ ناقص کارکردگی، غیرحاضری، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوامی شکایات میں ملوث افسران و ملازمین کی مکمل تفصیلات مرتب کرکے مقررہ مدت کے اندر چیف سیکرٹری آفس کو بھجوائی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس عمل میں مکمل شفافیت، غیرجانبداری اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی اہل افسر یا ملازم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری آفس میں اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو مختلف محکموں سے موصول ہونے والی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ ٹیم اپنی سفارشات کی روشنی میں حکومت کو آئندہ کارروائی، اصلاحی اقدامات اور ضروری انتظامی فیصلوں سے متعلق تجاویز پیش کرے گی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں میں احتساب، شفافیت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو فروغ دینا ہے تاکہ عوامی خدمات کے معیار میں بہتری آئے، بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ہو اور ایک ایسا مؤثر انتظامی نظام قائم کیا جا سکے جو عوامی توقعات پر پورا اترے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس فیصلے سے سرکاری مشینری کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور گڈ گورننس کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

More News