خیبرپختونخوا میں کرینز کو زندہ پکڑنے کے سیزن 2026 کی اجازت

خیبرپختونخوا میں کرینز کو زندہ پکڑنے کے سیزن 2026 کی اجازت

پشاور(محمد عارف ) محکمہ وائلڈ لائف خیبرپختونخوا نے کرینز کو زندہ پکڑنے کے سیزن 2026 کی اجازت دے دی، جس کے لیے باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق کرینز کو زندہ پکڑنے کا سیزن یکم ستمبر سے 15 اکتوبر تک جاری رہے گا، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں کرین پکڑنے کے لیے 100 کیمپوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔

ہر کیمپ کو ایک سیزن کے دوران زیادہ سے زیادہ 15 کرینز زندہ پکڑنے کی اجازت ہوگی۔ قواعد کے تحت صرف کامن کرین اور ڈیموئزیل کرین کو زندہ پکڑا جاسکے گا، جبکہ دیگر پرندوں کے شکار یا انہیں زندہ پکڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق مخصوص علاقوں میں کرین پکڑنے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ دریائے کرم، لکی مروت کے مخصوص ریفیوج اور زرمِلان میں کرین پکڑنے کے لیے کیمپ اور کوٹہ صفر مقرر کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اجازت نامے صرف مجاز اضلاع کے رہائشیوں کو جاری کیے جائیں گے اور کرینز کو صرف روایتی طریقہ کار کے ذریعے زندہ پکڑنے کی اجازت ہوگی۔

الیکٹرانک آلات، فائرنگ یا جال کے ذریعے کرین پکڑنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ کرینز کی نقل و حرکت بھی مقررہ اوقات تک محدود ہوگی، جو صبح 6 بجے سے رات 12 بجے تک ہے، جبکہ رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک کرینز کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق شکار سیزن ختم ہونے پر تمام کیمپ ختم کرنا اور پکڑی گئی کرینز کا اندراج لازمی ہوگا۔ 15 اکتوبر کے بعد کرینز کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں پرندے ضبط کرلیے جائیں گے۔

محکمہ وائلڈ لائف نے کیمپ پرمٹ فیس 15 ہزار روپے جبکہ کرین کی سالانہ ملکیتی فیس 400 روپے فی پرندہ مقرر کی ہے۔ ڈیموئزیل کرین کی سرکاری مالیت 7 ہزار روپے اور کامن کرین کی 13 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس منسوخ کردیا جائے گا اور متعلقہ شکاری کو 5 سال کے لیے بلیک لسٹ کیا جائے گا۔

More News