پشاور میں سرکاری آٹے کی ایک بار پھر قلت، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
فقیر آباد اور اشرف روڈ سمیت مختلف علاقوں میں سرکاری نرخ پر آٹے کے حصول کے لیے شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے
پشاور: شہر میں سرکاری آٹے کی دستیابی ایک بار پھر متاثر ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ فقیر آباد، اشرف روڈ اور دیگر علاقوں میں سرکاری نرخ پر آٹے کے حصول کے لیے شہریوں کو طویل انتظار اور دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فقیر آباد اور اشرف روڈ میں گزشتہ روز بعض مقامات پر فلور ملز سے سرکاری آٹے کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث ڈیلرز کے پاس موجود اسٹاک ختم ہوگیا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو مقررہ نرخ پر آٹے کے حصول میں مشکلات پیش آئیں۔
دوسری جانب محکمہ خوراک کی جانب سے آٹا ڈیلرز کی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے مزید ڈیلرز کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے ڈیلرز کی نشاندہی کرکے تفصیلی رپورٹ محکمہ خوراک کو بھجوا دی گئی ہے۔ خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ڈیلرز کے کوٹے اور لائسنس منسوخ کیے جانے کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
محکمہ خوراک کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے صوبے بھر میں 1,639 فعال ڈیلرز کے ذریعے مجموعی طور پر 3 لاکھ 6 ہزار 303 سرکاری آٹے کے تھیلے فراہم کیے گئے۔
اعدادوشمار کے مطابق اسی عرصے کے دوران پشاور ڈویژن میں 86 ہزار 854 تھیلے فراہم کیے گئے، جبکہ پشاور میں قواعد کی خلاف ورزی پر 14 آٹا ڈیلرز کے کوٹے اور لائسنس منسوخ کیے جاچکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ پر آٹے کی مسلسل اور وافر دستیابی یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر فلور ملز سے ڈیلرز تک بروقت سپلائی نہ پہنچے تو سرکاری آٹے کا اسٹاک ختم ہونے سے براہ راست عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی ترسیل کے نظام کی مؤثر نگرانی کی جائے اور فلور ملز سے ڈیلرز تک بروقت سپلائی یقینی بنائی جائے تاکہ انہیں سرکاری نرخ پر آٹے کے حصول کے لیے طویل انتظار اور غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔








