خیبرپختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے، 57 اہلکار تبدیل
پشاور: خیبرپختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے مختلف اضلاع اور اہم پولیس شعبوں سے وابستہ 57 اہلکاروں کے تبادلے اور نئی تعیناتیاں کردی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت سے تعلق رکھنے والے 19 جبکہ بنوں کے 8 اہلکار بھی تبادلوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا کے دفتر سے جاری حکم نامے کے مطابق تمام تبادلے اور نئی تعیناتیاں فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔ حکم نامہ 28 اگست 2026 کو پشاور سے جاری کیا گیا۔
حکم نامے کے تحت سیکیورٹی ڈویژن خیبرپختونخوا، سی سی پی او پشاور، ضلعی پولیس، ایس ایس یو سی پیک، ایلیٹ فورس، ایف آر پی، سی ٹی ڈی اور دیگر شعبوں سے اہلکاروں کے تبادلے کیے گئے ہیں۔
تبادلوں کے بعد اہلکاروں کو صوبے کے مختلف اضلاع اور پولیس کے اہم شعبوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ نئی تعیناتیوں میں اپر چترال، سوات، مردان، کوہاٹ، ایبٹ آباد، نوشہرہ، بنوں، ٹانک، بونیر، تورغر، مانسہرہ، صوابی، شانگلہ، لوئر چترال، لوئر دیر، ہری پور، لوئر کوہستان، چارسدہ، باجوڑ اور بٹگرام شامل ہیں۔
حکم نامے کے مطابق بعض اہلکاروں کی تعیناتی متبادل بنیادوں پر کی گئی ہے، جبکہ ایک اہلکار کو طبی بنیادوں پر سی سی پی او پشاور کے دفتر میں تعینات کیا گیا ہے۔
اسی طرح پولیس اسکول آف ایکسپلوزو ہینڈلنگ نوشہرہ سے بھی ایک اہلکار کو سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا منتقل کیا گیا ہے۔ مختلف شعبوں سے اہلکاروں کی نئی تعیناتیوں کا مقصد پولیس فورس کی ضروریات کے مطابق نفری کی تقسیم اور انتظامی امور کو بہتر بنانا قرار دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق حکم نامے پر اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ فیاض الفرید نے آئی جی خیبرپختونخوا کی جانب سے دستخط کیے ہیں۔ مراسلے کی نقول متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام اور سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے دفتر کو بھی ارسال کردی گئی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے حساس اضلاع خصوصاً بنوں اور لکی مروت میں سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پولیس نفری کی تعیناتیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں ان علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔







