خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کو کیوں متحرک نہیں کیا گیا؟ عطا تارڑ کا سوال

خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کو کیوں متحرک نہیں کیا گیا؟ عطا تارڑ کا سوال

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کو مؤثر انداز میں کیوں متحرک نہیں کیا گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو فعال کرنا اور سکیورٹی نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے انسداد دہشت گردی کے اقدامات، پولیس کی استعداد کار اور سکیورٹی اداروں کے کردار پر بھی توجہ دلائی۔ ان کے مؤقف کے مطابق دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اور متعلقہ اداروں کی فعالیت اہم ہے۔

خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی اور امن و امان کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سی ٹی ڈی کا کردار دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں، مشتبہ نیٹ ورکس کی نشاندہی اور پولیس کے ساتھ مل کر سکیورٹی اقدامات میں اہمیت رکھتا ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے بیان پر صوبائی حکومت یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی مزید وضاحت ہو سکے گی۔

More News