دریائے سندھ میں ڈوبنے والے تاجر اور دو بیٹوں کی تلاش چوتھے روز بھی جاری
صوابی: مردان سے تعلق رکھنے والے پولٹری کے معروف تاجر شکیل ماندوری اور ان کے دو کمسن بیٹوں سمیت دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے پانچ افراد کی تلاش چوتھے روز بھی جاری ہے، تاہم تاحال کسی لاپتہ شخص کا سراغ نہیں مل سکا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق 14 اگست کو صوابی کے علاقے ہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانچ افراد ڈوب گئے تھے۔ لاپتہ افراد میں 45 سالہ شکیل ماندوری، ان کے 20 سالہ بیٹے شرجیل اور 16 سالہ بیٹے خضر شامل ہیں، جبکہ 26 سالہ اویس کا تعلق چارسدہ اور 14 سالہ مشال کا یارحسین سے بتایا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 صوابی کی غوطہ خور ٹیم نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کردیا تھا۔ امدادی اہلکار دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر مسلسل تلاش کررہے ہیں، تاہم تیز بہاؤ اور دریا کی صورتحال کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
لاپتہ افراد کے اہلخانہ چوتھے روز بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ مقامی افراد بھی سرچ آپریشن میں امدادی ٹیموں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش مکمل ہونے تک سرچ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔






