روس میں سونے سے بھی زیادہ قیمتی معدنیات دریافت، نئی دریافت نے سائنس دانوں کی توجہ حاصل کر لی
ماسکو: روسی سائنس دانوں نے ملک کے شمال مغربی علاقے کولا جزیرہ نما میں ایک نئی نایاب معدنیات دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے “کولا ایشکروفٹائن” (Kola Ashcroftite) کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت معدنیات کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ اس کی منفرد کیمیائی خصوصیات مستقبل میں جدید صنعت، سائنسی تحقیق اور نئی ٹیکنالوجیز کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
روسی ذرائع کے مطابق نئی معدنیات اپنی نایابی اور منفرد ساخت کے باعث عالمی سائنسی برادری کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ بعض مقامی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس معدنیات کی ممکنہ قدر سونے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ اس دعوے کی تاحال کسی آزاد بین الاقوامی ادارے یا مستند سائنسی تحقیق کے ذریعے تصدیق نہیں ہوئی۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی معدنیات کی اصل اہمیت کا تعین صرف اس کی نایابی سے نہیں بلکہ اس کی کیمیائی ساخت، جسمانی خصوصیات، صنعتی افادیت، معاشی اہمیت اور تجارتی استعمال کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس نئی دریافت کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے اس پر مزید تجربات اور تفصیلی سائنسی تحقیق ضروری ہے۔
کولا جزیرہ نما دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جو معدنی وسائل سے مالا مال ہیں۔ اس علاقے میں ماضی میں بھی متعدد نایاب دھاتیں، معدنیات اور قیمتی عناصر دریافت کیے جا چکے ہیں، جنہیں مختلف صنعتی اور سائنسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نئی معدنیات کی دریافت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اس خطے میں مزید تحقیقی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور نئی معدنیات کی تلاش کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اگر مستقبل کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کولا ایشکروفٹائن جدید الیکٹرانکس، خلائی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، بیٹریوں یا دیگر جدید صنعتی شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے تو اس کی معاشی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم فی الحال اسے سونے سے زیادہ قیمتی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اس حوالے سے کوئی بین الاقوامی سائنسی توثیق یا تجارتی تشخیص ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی معدنیات کی دریافت سائنسی تحقیق کے لیے ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر اور افادیت کا فیصلہ آئندہ ہونے والی تفصیلی لیبارٹری تحقیقات، بین الاقوامی جائزوں اور صنعتی آزمائشوں کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔








