پمز میں فائر سیفٹی انتظامات انتہائی ناقص تھے، فائر پوائنٹ پر پانی بھی موجود نہیں تھا: ذرائع

پمز میں فائر سیفٹی انتظامات انتہائی ناقص تھے، فائر پوائنٹ پر پانی بھی موجود نہیں تھا: ذرائع

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اسپتال میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنیادی حفاظتی انتظامات بھی ناقص پائے گئے۔

ذرائع کے مطابق فائر ہوز میں کپلنگز موجود نہیں تھے جبکہ فائر پوائنٹ پر پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔ مزید یہ کہ ہنگامی انخلا کے راستوں پر مبینہ طور پر تالے لگے ہوئے تھے، جس کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور عملے کے فوری انخلا میں مشکلات پیدا ہوسکتی تھیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں ڈاکٹر، وارڈ بوائے یا دیگر متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال نے نومولود بچوں کی بروقت منتقلی اور ریسکیو کے انتظامات پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کی صبح پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے کے باعث آگ لگی، جس پر قابو پالیا گیا جبکہ کولنگ کا عمل جاری رہا۔

اسپتال حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو لیڈی ڈاکٹر بچانے میں کامیاب رہیں جبکہ 15 بچے جاں بحق ہوگئے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو آتشزدگی کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے گی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے اصل سوال اب یہ ہے کہ سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کب ہوگا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کب کیے جائیں گے۔

More News