سانحہ پمز: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور
اسلام آباد میں پمز ہسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی قرارداد اور تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے سانحے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ میں سینیٹر شیری رحمان نے سانحہ پمز پر خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ پمز سانحے میں بچوں کی اموات کا معاملہ دبنا نہیں چاہیے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف مالی وسائل کا نہیں بلکہ گورننس اور انتظامی نظام کا بھی ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اشرافیہ کے سرکاری علاج سے متعلق اقدامات کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر اعلیٰ عہدوں پر موجود افراد سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرائیں تو ان اداروں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے سانحے پر قرارداد پیش کی، جس میں معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں واقعے کا باعث بننے والی مبینہ غفلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ایوان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں، خصوصاً نرسریوں اور بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب سہولیات یقینی بنائی جائیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہونے کی تجویز دی۔ اجلاس میں ارکان نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ بیرسٹر گوہر نے غیر جانب دار تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مناسب مالی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔








