سانحہ پمز: وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، افسران اور عملے کی غفلت سامنے آگئی
اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے، جس میں ہسپتال کے افسران اور عملے کی مبینہ غفلت سامنے آنے کا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ہسپتال کے افسران، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کے بیانات ریکارڈ کیے جبکہ واقعے کے وقت آگ لگنے کی اطلاع ملنے اور فائر بریگیڈ کے پہنچنے کی مکمل ٹائم لائن بھی جانچی گئی۔
ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ریسکیو ٹیم کو ہسپتال کے اندر پہنچنے میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مقامات پر تالے لگے ہوئے تھے، ٹیکنیکل عملہ موجود نہیں تھا جبکہ آگ بجھانے کے لیے مناسب آلات کی عدم دستیابی بھی سامنے آئی۔ ریسکیو اہلکاروں کو اندر داخل ہونے کے لیے بعض دیواریں توڑنا پڑیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہسپتال کا متعلقہ عملہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب تربیت یافتہ نہیں تھا۔ کمیٹی نے 30 سے زائد ملازمین کے بیانات قلمبند کیے، جن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹرز، نرسز اور چلڈرن وارڈ میں تعینات 18 سے زائد سکیورٹی گارڈز شامل ہیں۔
کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کا بائیومیٹرک ریکارڈ بھی چیک کیا جبکہ فائر بریگیڈ، ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ حکام کے بیانات بھی لیے گئے۔
وزیراعظم کی کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ کے لیے دی گئی 48 گھنٹے کی مدت مکمل ہورہی ہے، تاہم کمیٹی پانچ روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ دوسری جانب پمز انتظامیہ نے بھی الگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کی معطلی اور وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔








