سینیٹ ٹکٹوں پر پی ٹی آئی میں اندرونی کشمکش جاری، اختلافات کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگے

سینیٹ ٹکٹوں پر پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

پاکستان تحریک انصاف میں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی معاملات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سینیٹ انتخابات سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم پر پیدا ہونے والی کشیدگی نے پارٹی قیادت کے لیے بھی نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

سابق گورنر خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن شاہ فرمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے پارٹی فیصلوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے بیانات نے نہ صرف پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کیا بلکہ قیادت کی پالیسیوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔

شاہ فرمان نے سوال اٹھایا کہ جب پارٹی نے عرفان سلیم کو سینیٹ ٹکٹ جاری کیا تھا تو پھر کس کے کہنے پر سجاد مہمند نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ پارٹی پالیسی کے برعکس جا کر سجاد مہمند کو کامیاب کروانے کی ذمہ داری کس نے لی۔ ان سوالات کے بعد پارٹی کے اندر گروپ بندی اور اختلافات کی بازگشت مزید تیز ہو گئی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ آخر وہ کون سا گروہ ہے جو نہ پارٹی نظم و ضبط کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی عمران خان کے فیصلوں کی پابندی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق شاہ فرمان کے یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارٹی کے اندر اہم فیصلوں پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں اور بعض حلقے قیادت کے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مختلف رہنماؤں کے درمیان اختلافات تاحال برقرار ہیں۔ بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ اور پارٹی وفاداری کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ کچھ حلقے اسے اندرونی سیاسی کشمکش قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے اختلافات آنے والے دنوں میں پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی پہلے ہی مختلف سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیادت نے بروقت اختلافات کو حل نہ کیا تو اس کے اثرات پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی اور مستقبل کی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تاحال پارٹی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقے اس صورتحال کو پی ٹی آئی کے اندر بڑھتی ہوئی اندرونی کشمکش کا واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

More News