صارفین کا ڈیٹا غلط استعمال کرنے پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانے کا حکم
امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو صارفین کو گمراہ کرنے اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کے معاملے میں 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کی رازداری سے متعلق مقدمے میں سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیوری نے میٹا کو صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے بعد عدالت نے کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا۔ مقدمے کا تعلق کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے ہے، جس میں ایک سیاسی مشاورتی ادارے پر الزام تھا کہ اس نے فریق ثالث کی ایپ کے ذریعے لاکھوں فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا ان کی رضامندی کے بغیر حاصل کیا۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کے مطابق یہ فیصلہ کسی ایک امریکی ریاست کی جانب سے کسی کمپنی کے خلاف عائد کیے جانے والے بڑے ترین جرمانوں میں شامل ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق ریاستی قانون کے تحت جرمانے کی رقم 219 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی تھی، تاہم جج نے اسے کم کرکے 25 ارب ڈالر مقرر کیا۔ ریاست نے میٹا پر الزام لگایا تھا کہ کمپنی صارفین کو ان کے ڈیٹا تک رسائی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات سے نمٹنے کے طریقہ کار کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
کیمبرج اینالیٹیکا نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ووٹرز کی پروفائلنگ اور سیاسی تشہیر کے لیے فیس بک صارفین کی معلومات استعمال کی تھیں۔ اس اسکینڈل نے دنیا بھر میں ڈیجیٹل پرائیویسی اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو جنم دیا۔








